بھدوہی(یو پی)،14؍اپریل(ایس او نیوز؍پی ٹی آئی) پولیس نے آج 4 صحافیوں اور دیگر 2؍افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کرلیا ہے اور کہا ہے کہ اِن تمام نے ایک واقعہ کے بارے میں فرضی؍جھوٹی نیوز پھیلائی تھی۔مذکورہ واقعہ میں ایک خاتون نے اپنے 5؍ بچوں کو دریا گنگا میں پھینک دیا تھا۔
مذکورہ ایف آئی آر میں ، نیوز ایجنسی آئی اے این ایس اور بزنس انسائیڈر کے ایڈیٹرس ونیز متعلقہ رپورٹرس کا (بحیثیت ملزمین) اندراج عمل میں آیا ہے۔ اگرچہ ناموں کے ذریعہ اُن کی شناخت نہیں کی گئی ہے۔ مذکورہ اداروں نے جورپورٹس پھیلا تھیں، اُن میں یہ کہا گیا تھا کہ مذکورہ خاتون نے، لاک ڈاؤن کے سبب بچوں کو غذائ نہ ملنے پر مذکورہ انتہائی اقدام کیا تھا۔ تاہم متعلقہ حکام نے مذکورہ دعویٰ کو مسترد کردیا۔
بتایا جاتا ہے کہ قانون تعزیرات ہند کی دفعات بشمول دفعہ(بی) (1) 505 ، کیس درج کر لیا گیا ہے۔ مذکورہ دفعہ، کسی افواہ یا ایسی رپورٹ کی اشاعت سے متعلق ہے جس سے خوف یا سنسنی پیدا ہوسکتی ہے یا حکومت کیخلاف جرم کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ پولیس نے قانون تعزیرات ہند کی دفعہ 188 کو بھی لاگو کیا ہے۔ (مذکورہ دفعہ، کسی عوامی خدمات گارکی جانب سے نافذ کردہ کسی حکم کی خلاف ورزی سے متعلق ہے)۔ سوشیل میڈیا پر مذکورہ فیک نیوز کو گشت کرانے پر 2؍افراد سلیم اختر اور ہنس راج مینا پر بھی کیس درج کیا گیا ہے۔
بھدوہی کے سپرنٹنڈ نٹ آف پولیس رام بدن سنگھ نے بتایا کہ گوپی گنج پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کیا گیا ہے۔ ضلع مجسٹریٹ راجندر پرساد نے کہا کہ 2 میڈیا گھرانوں نے اطلاع دی تھی کہ مذکورہ خاتون، یومیہ اجرت پر کام کرنے والی ایک مزوردر ہے جس کے پاس کھانے کیلئے کچھ نہیں تھا اور اُس نے اپنے 5 بچوں کو دریائے گنگا میں پھینک دیا۔
راجندر پرساد نے بتایا کہ واقعہ یہ ہے کہ مذکورہ خاتون، یومیہ اجرات پر کام کرنے والی نہیں تھی اور نہ اُس کو غذائی قلت کا سامنا تھا۔ اُس نے اپنے شوہر کے ساتھ جھگڑے اور تکرار کے بعد انتہائی قدم اُٹھایا۔ منجو یادو نامی مذکورہ خاتون کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔